10 مارچ 2012 - 20:30

یمن کی عوامی کمیٹیوں کے بورڈ کے رکن نے کہا: سعودی خاندان یمن کے بااثر افراد کو ماہانہ چار کروڑ ڈالر ادا کرکے یمنی انقلاب کو ناکام بنانے اور اپنے مفادات کے تحفظ کی کوشش کررہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمنی انقلابی راہنما اور عوامی کمیٹیوں کے بورڈ کے بانی رکن "نائف الشرعبی" نے بدھ کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: امریکہ اپنی پالیسی "تعمیری لاقانونیت" کے تحت قوموں کے درمیان اختلاف ڈالنے کے ایجنڈے پر کام کررہا ہے تا کہ علاقے کے ممالک رونما ہونے والے واقعات کا انتظام و انصرام سنبھالنے سے عاجز اور بے بس ہوں اور اقوام سے اپنے اور صہیونی ریاست کے مفاد میں آسانی کے ساتھ فائدہ اٹھائے اور انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے سے باز رکھا جائے۔
انھوں نے کہا: یمن میں جاری بحران "ریاض کے مفاہمت نامے کا نتیجہ ہے جس کی بنیاد پر علی عبداللہ صالح اور ان کے دھڑے کو اقتدار میں برقرار رکھا گیا اور اس کے بعد انقلابی قوتوں کو الگ تھلگ اور تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر کام کیا اور اپنے کھیل کو تین میدانوں میں جاری رکھا:
1۔ انقلابی قوتوں کو تقسیم در تقسیم کرکے بدنام کرنا
2۔ ذرائع ابلاغ میں شمال کے حوثیوں اور جنوبی عوام کو بدنام کرنے کی مہم چلانا
3۔ القاعدہ کو سرگرم اور فعال کرنا اور اس کی سرگرمیوں کے بہانے انقلابی تحریک کو ماند کردیں اور انقلاب کی خبروں کو القاعدہ کی خبروں کے سامنے بے وقعت کردیں۔
انھوں نے کہا: ریاض مفاہمت نامے میں یہ تین نکات شامل تھے جن پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
الشرعبی نے کہا: القاعدہ علی عبداللہ صالح کی ایجاد کردہ تنظیم ہے جو انھوں امریکیوں کے مفادات کے تحفظ اور افغانستان میں سابق سوویت یونین کو شکست دینے کے لئے استعمال کیا اور آج بھی القاعدہ یمن میں موجود ہے اور اس کی باگ ڈور علی عبداللہ صالح کے ہاتھ میں ہے۔
یاد رہے کہ القاعدہ کی عراقی اور شامی شاخوں کی کمانڈ سعودی شہزادے بندر بن سلطان کے ہاتھ میں ہے۔
انھوں نے کہا: یمن میں امریکی سفارت خانے سے رد پوش ہونے والی اطلاعات کے مطابق یمنی القاعدہ تنظیم کو انقلابی قوتوں کے درمیان خلیج ڈالنے، یمن کی اندرونی فضا پر تسلط جمانے، یمنی نوجوانوں کو ان کے جائز مطالبات سے منحرف کرنے اور انقلاب کو بھول جانے پر آمادہ کرنے اور سیاسی و معاشی صورت حال سے منحرف کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا: علاقے کے سعودی عرب سمیت بعض ممالک امریکہ کے نمائندوں کا کردار ادا کررہے ہیں؛ مثلا سعودی عرب یمن میں دن رات با اثر افراد کو بڑي بڑي رقوم ادا کرتا ہے اور مجموعی طور پر سعودی خاندان یمن میں ماہانہ 40 ملین ڈالر خرچ کررہا ہے تا کہ یمن میں امریکی اور سعودی مفادات کی حفاظت کی جاسکے اور یمن کو 1960 کے انقلاب کی صورت حال میں رکھا جاسکے اور آگے بڑھنے سے روکا جاسکے۔
نائف الشرعبی نے آخر میں کہا: یمن ابھی تک کوئی مہذب اور متمدنانہ ترقی نہیں کرسکا ہے کیونکہ علی عبداللہ صالح آل سعود کے تعاون سے یمنی عوام کو درپیش سیاسی اور معاشی مشکلات سے نکلنے کی کی اجازت نہیں دیتا اور ملک میں مسلسل سیکورٹی مسائل پیدا کرتا رہا ہے اور یمن کو امریکی و سعودی اڈے میں تبدیل کرتا آیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110

تفصیلی رپورٹس کے لئے رجوع کریں:

سعودی عرب میں شیعہ باشندوں کی گرفتاریوں میں زبردست اضافہ / اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون